Atfal Compass
Staying SafeAges 4–9

پارک کا پراسرار اجنبی اور ایک اہم سبق

شام کا وقت تھا، اور لاہور کا مشہور جامِ شیریں پارک بچوں کی ہنسی اور چہل پہل سے گونج رہا تھا۔ ہری ہری گھاس پر سنہری دھوپ پھیلی ہوئی تھی، اور جھولوں کے پاس بچوں کا شور دل کو بھلا لگ رہا تھا۔

عبداللہ اور خالد، جو اب تھوڑے بڑے اور سمجھ دار ہو چکے تھے، پارک کے ایک کونے میں فٹبال کھیلنے میں مصروف تھے۔ ان کے ساتھ عبداللہ کا چھوٹا بھائی عمر بھی آیا ہوا تھا، جس کی عمر ابھی صرف ساڑھے تین چار سال کے قریب تھی۔ عمر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی کار لیے ریت میں ٹریک بنا رہا تھا اور اپنی ہی مستی میں مگن تھا۔

دونوں بڑے لڑکے کھیل میں مصروف تھے، لیکن ان کی ایک آنکھ مسلسل عمر پر بھی تھی۔

اتنے میں، پارک کے دوسرے سرے سے ایک نامعلوم شخص آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، ایسی مسکراہٹ جو بظاہر تو بہت دوستانہ لگ رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ وہ شخص ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے وہ ان بچوں کو بہت اچھے سے جانتا ہو۔

اس اجنبی نے ادھر ادھر دیکھا۔ جب اس نے دیکھا کہ عبداللہ اور خالد اپنے کھیل میں ذرا سا غافل ہیں اور عمر ان سے کچھ فاصلے پر اکیلا کھیل رہا ہے، تو وہ سیدھا عمر کے پاس آ گیا۔

وہ شخص عمر کے بالکل قریب جھکا اور پیار بھری آواز میں مسکرا کر بولا: "ارے میرے پیارے عمر! کیسے ہو؟ تم تو بہت پیارے بچے ہو۔ دیکھو، وہاں جھولوں کے پاس کتنے مزے مزے کے کھلونے رکھے ہیں اور ایک بڑی سی سلائیڈ بھی ہے! آؤ میرے ساتھ، میں تمہیں وہاں لے کر چلتا ہوں اور تم میرے ساتھ بہت مزے سے کھیلنا۔ بولو، چلو گے میرے ساتھ؟"

عمر نے اپنی بڑی بڑی معصوم آنکھوں سے اس اجنبی کو دیکھا۔ وہ چھوٹا تھا، اس لیے یہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ شخص کون ہے۔ وہ اٹھ کر اس کے ساتھ جانے ہی والا تھا کہ اتنے میں خالد کی نظر اس اجنبی پر پڑ گئی۔

خالد کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے فوراً عبداللہ کو کہنی ماری اور کہا: "عبداللہ! وہ دیکھو، عمر کے پاس کوئی اجنبی کھڑا ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا ہے!"

عبداللہ نے پلٹ کر دیکھا تو اس کے تیز دماغ میں فوراً خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہچکچایا۔ دونوں نے پوری طاقت سے آواز لگائی: "عمر! فوراً ادھر آؤ! جلدی بھاگ کر ہمارے پاس آؤ!"

جب عمر نے عبداللہ اور خالد کی اتنی سخت اور پکی آواز سنی، تو وہ اس اجنبی کو چھوڑ کر گھبرایا ہوا دوڑتا ہوا ان کے پاس آ گیا اور عبداللہ کی ٹانگ سے لپٹ گیا۔

جیسے ہی عبداللہ اور خالد نے عمر کو زور سے پکارا اور تیزی سے اس کی طرف لپکے، وہ اجنبی گھبرا گیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ بچہ اکیلا نہیں ہے اور اس کے ساتھ والے لڑکے ہوشیار ہیں۔ وہ فوراً پیچھے ہٹا، منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا، اور تیز قدموں سے بھیڑ میں غائب ہو گیا۔

عبداللہ نے جھک کر ننھے عمر کو پیار سے گلے لگایا۔ اس کا اپنا دل ابھی تک تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے عمر کو نرمی لیکن بہت سنجیدگی سے سمجھایا: "عمر! میری بات سنو اور اسے ہمیشہ یاد رکھنا! دنیا کا کوئی بھی انسان ہو، اگر وہ تمہیں کہے کہ میرے ساتھ آؤ، چاکلیٹ دوں گا، یا پارک کے دوسرے حصے میں لے جا کر کھیلوں گا، تو کبھی بھی کسی اجنبی کی بات پر یقین نہیں کرنا اور نہ ہی اس کے ساتھ جانا! یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے، کوئی تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔"

خالد نے بھی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: "اور ہاں عمر! جب بھی کوئی اجنبی تمہیں بلائے تو فوراً بھاگ کر ہمارے پاس آ جانا یا امی ابا کے پاس چلے جانا۔ اگر کوئی جان پہچان والا بھی ہو، تب بھی پہلے جا کر امی یا ابا سے پوچھنا اور اجازت لینا۔ اگر وہ کہیں کہ ہاں، تم جا سکتے ہو، تبھی جانا، ورنہ کبھی کسی کے ساتھ نہیں جانا!"

عمر نے اپنا ننھا سا سر ہلایا اور سمجھ داری سے بولا: "بھیا! میں سمجھ گیا ہوں۔ اب میں کبھی کسی اجنبی کے ساتھ نہیں جاؤں گا، اور کوئی بھی بات ہو گی تو فوراً آپ کو اور امی کو بتاؤں گا!"

عبداللہ اور خالد نے عمر کو ایک بار پھر پیار کیا۔ اس شام کے بعد سے وہ عمر کا اور زیادہ خیال رکھنے لگے، اور یہ واقعہ ان سب کے لیے ہمیشہ کے لیے ایک بہت بڑا سبق بن گیا۔

بچوں کی حفاظت کے لیے ہوشیاری اور بیداری بہت ضروری ہے۔ کسی بھی اجنبی کے فریب یا جھوٹے وعدوں میں ہرگز نہ آئیں، اور ایسی کسی بھی صورتحال میں فوراً اپنے والدین یا بڑوں کو مطلع کریں۔

مل کر بات کریں

  1. اجنبی نے عمر کو ساتھ لے جانے کے لیے کیا لالچ دیا؟
  2. اگر کوئی انجان شخص آپ کو ساتھ چلنے کو کہے تو آپ کیا کریں گے؟
  3. وہ کون سے بڑے ہیں جن کے پاس آپ ہمیشہ مدد کے لیے بھاگ کر جا سکتے ہیں؟ آئیں مل کر ان کے نام لیں۔

More short stories →