صحت مند زندگی اور کھیلوں کا سفر
ایک خوبصورت اور ہرے بھرے علاقے میں خالد اور عبداللہ نامی دو اچھے دوست رہتے تھے۔ ان دونوں کی دوستی بہت گہری تھی، لیکن ان کی پسند اور عادتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔
خالد ایک ایسا لڑکا تھا جسے کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کا بہت شوق تھا۔ وہ شام ہوتے ہی کرکٹ، فٹبال اور دوڑنے کے لیے میدان کا رخ کرتا تھا۔ اس کی یہ عادت اسے تر و تازہ اور چاق و چوبند رکھتی تھی۔
اس کے برعکس عبداللہ کو باہر جا کر کھیلنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ سارا دن اپنے کمرے میں بیٹھا رہتا اور موبائل یا کمپیوٹر پر گھنٹوں ویڈیو گیمز کھیلتا رہتا تھا۔ اسے اسکرین کی دنیا اتنی اچھی لگتی کہ باہر کی تازہ ہوا اور سورج کی روشنی سے اس کا کوئی واسطہ ہی نہ رہا تھا۔
خالد اکثر عبداللہ کو اپنے ساتھ میدان میں چلنے کی دعوت دیتا۔ وہ کہتا: "عبداللہ! آؤ، میرے ساتھ فٹبال کھیلتے ہیں، میدان میں دوڑنے سے جسم تندرست رہتا ہے اور دماغ بھی تیز ہوتا ہے۔"
لیکن عبداللہ ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر انکار کر دیتا اور کہتا: "ارے خالد! باہر دھوپ میں کون پسینہ بہائے؟ مجھے موبائل گیمز میں ہی بہت مزہ آتا ہے، میرا وقت مزے سے گزر رہا ہے۔"
خالد اس کی یہ بات سن کر چپ ہو جاتا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عبداللہ کی یہ بری عادت اس کی صحت پر اثر انداز ہونے لگی۔
کچھ مہینے ایسے ہی گزرے کہ اچانک عبداللہ کی طبیعت میں تبدیلی آنے لگی۔ بغیر کسی محنت کے بھی اسے شدید تھکاوٹ محسوس ہونے لگی۔ صبح اٹھتے وقت چکر آنے لگتے، جسم میں سستی اور کمزوری رہنے لگی۔ یہاں تک کہ اس کا پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا تھا؛ جب وہ کتاب کھولتا تو چند منٹ بعد ہی اس کا سر درد کرنے لگتا اور توجہ ہٹ جاتی۔ وہ ان مسائل کی وجہ سے کافی پریشان رہنے لگا۔
آخر کار ایک دن عبداللہ نے ہمت کی اور اپنی یہ تمام پریشانیاں خالد کے سامنے رکھ دیں۔
خالد، جو اپنی صحت کا بہت خیال رکھتا تھا اور فٹنس کے اصولوں سے واقف تھا، اس نے اپنے دوست کی بات بہت توجہ سے سنی۔ سارا ماجرا سمجھنے کے بعد خالد نے پیار سے عبداللہ کو سمجھایا: "عبداللہ! تمہاری ان تمام بیماریوں اور تھکاوٹ کی جڑ تمہارا دن بھر ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا اور صرف اسکرین کا استعمال ہے۔ جسمانی کھیلوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے تمہارا خون گردش نہیں کرتا اور تمہارے پٹھے کمزور ہو رہے ہیں۔"
خالد نے مزید کہا: "کھیل کود صرف تفریح نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے جسم کو طاقتور بناتے ہیں، دماغ کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور پڑھائی میں توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کو بھی بڑھاتے ہیں۔"
عبداللہ کو خالد کی بات بالکل ٹھیک لگی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنی اس عادت کو بدلے گا۔
اگلے دن سے عبداللہ نے خالد کے ساتھ میدان میں جانا شروع کر دیا۔ شروع میں اس کے لیے دوڑنا اور کھیلنا تھوڑا مشکل تھا، کیونکہ اس کا جسم عادی نہیں تھا۔ لیکن خالد نے اس کی بہت حوصلہ افزائی کی اور اسے ساتھ لے کر چلا۔
دن گزرتے گئے اور عبداللہ کی محنت رنگ لانے لگی۔ روزانہ کی جسمانی ورزش، تازہ ہوا اور کھیلوں کی وجہ سے اس کی تھکاوٹ اور چکر آنے کی شکایت کم ہونے لگی۔ چند ہفتوں کے اندر ہی وہ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور، چاق و چوبند اور تندرست محسوس کرنے لگا۔ اب اس کی پڑھائی میں بھی توجہ لگنے لگی تھی اور اس کی تمام پریشانیاں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھیں۔
عبداللہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور اسے معلوم ہو گیا تھا کہ زندگی میں توازن کتنا ضروری ہے۔
زندگی میں تمام سرگرمیوں کے درمیان توازن (Balance) رکھنا بہت ضروری ہے۔ ڈیجیٹل گیمز یا پڑھائی کے ساتھ ساتھ جسمانی کھیل کود بھی اتنے ہی ضروری ہیں، ورنہ لاپرواہی ہماری نشوونما اور صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مل کر بات کریں
- عبداللہ کو بغیر محنت کے تھکاوٹ اور چکر کیوں آنے لگے؟
- خالد نے صرف غلطی بتانے کے بجائے اپنے دوست کی مدد کیسے کی؟
- آپ روزانہ اسکرین پر کتنا وقت گزارتے ہیں اور باہر کتنا کھیلتے ہیں؟ آپ کے لیے اچھا توازن کیسا ہوگا؟
ویڈیو میں دیکھیں
Watch the Urdu video on the Atfal Compass YouTube channelOpens YouTube in a new tab