Atfal Compass
Read in EnglishاردوConsistencyAges 7–11

مستقل مزاجی کا راز

ایک پرسکون اور خوبصورت محلے میں عبداللہ اور خالد نامی دو اچھے دوست رہتے تھے۔ دونوں ایک ہی جماعت میں پڑھتے تھے، لیکن ان کی عادتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔

عبداللہ اپنی مستقل مزاجی (Consistency) کے لیے مشہور تھا۔ وہ کبھی بھی اپنے کام میں تاخیر نہیں کرتا تھا۔ اس کا معمول یہ تھا کہ وہ اسکول کے تمام اسائنمنٹس، ہوم ورک اور روزمرہ کے کام وقت پر مکمل کرتا، اور ساتھ ہی باقاعدگی سے پچھلے اسباق کی دہرائی (Revision) بھی کرتا تھا۔ وہ ہر کام کو اس کے طے شدہ وقت پر کرنے کا عادی تھا اور کسی بھی چیز کو کل پر نہیں ٹالتا تھا۔

اس کے برعکس، خالد کے ساتھ معاملہ الگ تھا۔ وہ اکثر اپنے کام بھول جاتا یا سستی کی وجہ سے انہیں کل پر ٹال دیتا۔ جب بھی اسے کوئی نیا کام ملتا، وہ سوچتا کہ "یہ تو میں کل کر لوں گا"، اور اس چکر میں کام جمع ہوتے ہوتے ایک پہاڑ کی طرح اکٹھے ہو جاتے تھے۔ پھر آخری وقت میں اسے شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ایک دن، جب خالد اپنے بہت سارے ادھورے کاموں اور اسکول کے ڈھیر سارے ہوم ورک کو دیکھ کر پریشان بیٹھا تھا، تو عبداللہ اس کے پاس آیا۔

خالد نے اداس ہو کر پوچھا: "عبداللہ! تم اتنے مستقل مزاج کیسے ہو؟ تم کبھی بھی اپنا کوئی کام نہیں بھولتے اور ہر چیز وقت پر کیسے کر لیتے ہو؟ مجھے بھی اپنی اس مستقل مزاجی کا راز بتاؤ!"

عبداللہ مسکرایا اور پیار سے اپنے دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا: "خالد! اس کا سب سے بڑا سبق ہمیں ہمارے رب نے روزانہ کی عبادت یعنی نماز سے سکھایا ہے۔ ذرا غور کرو، اللہ تعالیٰ نے دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور ہر نماز کا ایک خاص وقت مقرر کیا ہے۔ اگر ہم فجر کی نماز ظہر کے وقت پڑھیں، یا عصر کی نماز مغرب کے بعد پڑھیں، تو کیا وہ وقت پر ادا ہوئی؟ بالکل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے۔"

عبداللہ نے مزید سمجھاتے ہوئے کہا: "نماز ہمیں یہ بہت بڑا درس دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی میں ہر کام کا ایک وقت ہونا چاہیے۔ کام کو بلاوجہ مؤخر کرنا ایک ایسی بیماری ہے جو شروع میں تو آرام دہ لگتی ہے، لیکن آگے چل کر انسان کو شدید ذہنی تکلیف اور پریشانی دیتی ہے۔"

خالد نے غور سے اپنے دوست کی بات سنی، پھر ایک لمبی آہ بھر کر بولا: "بات تو تم نے بالکل سچی کہی عبداللہ! لیکن کیا کروں؟ جب بھی کام کرنے بیٹھتا ہوں، تو مجھ پر سستی طاری ہو جاتی ہے اور میرا دل کام کرنے کو نہیں چاہتا۔ اس سستی کا کیا علاج کروں؟"

عبداللہ نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا: "بھائی! سستی کا علاج صرف اور صرف چستی اور بیداری ہے۔ جب بھی دل کہے کہ 'کام کل کر لیں گے'، اسی لمحے اپنے آپ کو جھٹکو، اٹھ کھڑے ہو اور کہو کہ 'نہیں، مجھے یہ کام ابھی اور اسی وقت کرنا ہے!' جیسے ہی تم سستی کو ہٹا کر چستی کا مظاہرہ کرو گے، تمہاری یہ عادت ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔"

خالد کو عبداللہ کی یہ بات دل پر لگ گئی۔ اس نے اپنے دوست سے وعدہ کیا کہ اب وہ وقت کی پابندی کرے گا اور سستی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دے گا۔

کام کو وقت پر کرنا اور ٹال مٹول (Procrastination) سے بچنا ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ سستی کا واحد علاج چستی اور بروقت عمل کرنا ہے۔

مل کر بات کریں

  1. خالد کے کام پہاڑ کی طرح کیوں جمع ہو گئے؟
  2. نماز ہمیں کام وقت پر کرنے کے بارے میں کیا سکھاتی ہے؟
  3. اگلی بار جب دل کہے 'کل کر لوں گا' تو آپ اس کے بجائے کیا کریں گے؟

ویڈیو میں دیکھیں

Watch the Urdu video on the Atfal Compass YouTube channelOpens YouTube in a new tab

More short stories →