Atfal Compass
Read in EnglishاردوHard WorkAges 7–11

آہستہ لیکن مسلسل

ایک خوبصورت اور پرسکون شہر میں عبداللہ اور خالد نامی دو دوست رہتے تھے۔ دونوں ایک ہی اسکول اور ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں کے پڑھنے کا انداز بالکل مختلف تھا۔

عبداللہ ایک محنتی اور صابر لڑکا تھا۔ وہ پڑھائی میں کوئی بہت تیز یا زبردست ذہین نہیں تھا، لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنا کام کبھی کل پر نہیں ٹالتا تھا۔ وہ ہر روز کا کام اسی دن مکمل کرتا تھا۔ چاہے تھوڑا سا ہی پڑھے، لیکن مسلسل پڑھتا تھا۔ اس کا اصول تھا: "آہستہ لیکن مسلسل!"

دوسری طرف خالد بلا کا ذہین اور تیز طرار لڑکا تھا۔ اسے اسکول کا کوئی بھی سبق بہت جلدی یاد ہو جاتا تھا۔ معلم جو بھی پڑھاتے، خالد اسے منٹوں میں سمجھ لیتا۔ لیکن خالد کے اندر ایک بہت بڑی برائی تھی—سستی اور کاہلی! وہ ہر کام میں ٹال مٹول سے کام لیتا۔

جب بھی عبداللہ خالد سے کہتا: "خالد! چلو شام کو مل کر امتحان کی تیاری کرتے ہیں، نصاب کافی لمبا ہے۔"

تو خالد ہنس کر جواب دیتا: "ارے عبداللہ! تم بھی نا بلاوجہ پریشان ہوتے ہو۔ ابھی تو امتحانات میں پورے دو مہینے باقی ہیں۔ میرے لیے تو پورا نصاب ختم کرنے میں صرف دو دن لگیں گے۔ تم اپنا وقت ضائع کرو، میں تو ابھی کھیل کود اور آرام کروں گا۔"

عبداللہ اپنے دوست کی بات سن کر مسکرا دیتا اور خاموشی سے اپنی تیاری میں لگا رہتا۔ وہ روزانہ ایک ایک باب (Chapter) تیار کرتا، اس کے نوٹس بناتا اور سبق دہراتا۔

وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے سالانہ امتحانات سر پر آ گئے۔

امتحان سے صرف دو دن پہلے خالد نے اپنی کتابیں کھولیں۔ لیکن جیسے ہی اس نے تمام مضمونوں کا نصاب دیکھا، اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ نصاب اتنا زیادہ تھا کہ دو دنوں میں اسے پورا کرنا ناممکن تھا۔ اس نے راتوں کو جاگ کر پڑھنے کی کوشش کی، لیکن دماغ تھک چکا تھا اور اتنی جلدی کچھ بھی اچھے سے یاد نہیں ہو رہا تھا۔ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے وہ اہم سبق بھی بھولنے لگا۔

دوسری طرف عبداللہ بالکل سکون میں تھا۔ اس نے اپنا سارا نصاب وقت پر ختم کر لیا تھا اور اب وہ صرف اطمینان کے ساتھ دہرائی (Revision) کر رہا تھا۔ وہ رات کو وقت پر سویا اور صبح تازہ دم ہو کر اسکول پہنچا۔

امتحان کا دن آیا۔ پرچہ سامنے ملتے ہی عبداللہ نے پرسکون ذہن کے ساتھ تمام سوالات کے بہترین جوابات لکھے۔ لیکن خالد پرچے کو دیکھ کر پریشان بیٹھا رہا۔ کیونکہ اس نے سستی کی وجہ سے پورا نصاب کور ہی نہیں کیا تھا، بہت سے سوالات ایسے تھے جو اس نے پڑھے ہی نہیں تھے۔ وہ ادھورے جوابات لکھ کر افسردہ دل کے ساتھ باہر آیا۔

کچھ دنوں بعد جب نتائج کا اعلان ہوا، تو عبداللہ نے اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ سب نے اس کی محنت کی تعریف کی۔ جبکہ خالد اپنے کم نمبروں کو دیکھ کر شرمندہ کھڑا تھا۔

خالد عبداللہ کے پاس آیا، اس کا ہاتھ تھاما اور بولا: "عبداللہ! مجھے آج اندازہ ہوا کہ صرف ذہانت کافی نہیں ہوتی۔ میں اپنی سستی اور ٹال مٹول کی عادت کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔ تم نے مجھے سکھا دیا کہ جو وقت پر کام کرتا ہے اور سستی نہیں دکھاتا، وہی اصل کامیابی حاصل کرتا ہے۔"

عبداللہ نے اپنے دوست کو گلے لگایا اور کہا: "کوئی بات نہیں خالد! آئندہ کے لیے یاد رکھنا..."

مسلسل محنت اور وقت پر کام کرنے کی عادت (Proactiveness) ہمیشہ سستی اور ٹال مٹول پر فتح حاصل کرتی ہے۔

مل کر بات کریں

  1. خالد پڑھائی میں عبداللہ سے زیادہ تیز تھا، پھر بھی عبداللہ کیوں اول آیا؟
  2. جب عبداللہ مل کر پڑھنے کو کہتا تھا تو خالد خود سے کیا کہتا تھا؟
  3. کیا کوئی ایسا کام ہے جسے آپ ٹال رہے ہیں؟ آج اس کا چھوٹا سا حصہ کون سا کر سکتے ہیں؟

More short stories →